سورۃ 37 الصافات (صف), آیت 99 – 109
-
وَقَالَ إِنِّي ذَاهِبٌ إِلَىٰ رَبِّي سَيَهْدِينِ
اور اس (ابراہیم علیہ السلام) نے کہا میں تو ہجرت کر کے اپنے پروردگار کی طرف جانے واﻻ ہوں ۔ وه ضرور میری رہنمائی کرے گا.
37:99 -
رَبِّ هَبْ لِي مِنَ الصَّالِحِينَ
اے میرے رب! مجھے نیک بخت اوﻻد عطا فرما.
37:100 -
فَبَشَّرْنَاهُ بِغُلَامٍ حَلِيمٍ
تو ہم نے اسے ایک بردبار بچے کی بشارت دی.
37:101 -
فَلَمَّا بَلَغَ مَعَهُ السَّعْيَ قَالَ يَا بُنَيَّ إِنِّي أَرَىٰ فِي الْمَنَامِ أَنِّي أَذْبَحُكَ فَانْظُرْ مَاذَا تَرَىٰ ۚ قَالَ يَا أَبَتِ افْعَلْ مَا تُؤْمَرُ ۖ سَتَجِدُنِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ مِنَ الصَّابِرِينَ
پھر جب وه (بچہ) اتنی عمر کو پہنچا کہ اس کے ساتھ چلے پھرے ، تو اس (ابراہیم علیہ السلام) نے کہا میرے پیارے بچے! میں خواب میں اپنے آپ کو تجھے ذبح کرتے ہوئے دیکھ رہا ہوں۔ اب تو بتا کہ تیری کیا رائے ہے؟ بیٹے نے جواب دیا کہ ابا! جو حکم ہوا ہے اسے بجا ﻻئیے انشاءاللہ آپ مجھے صبر کرنے والوں میں سے پائیں گے.
37:102 -
فَلَمَّا أَسْلَمَا وَتَلَّهُ لِلْجَبِينِ
غرض جب دونوں مطیع ہوگئے اور اس نے (باپ نے) اس کو (بیٹے کو) پیشانی کے بل گرا دیا.
37:103 -
وَنَادَيْنَاهُ أَنْ يَا إِبْرَاهِيمُ
تو ہم نے آواز دی کہ اے ابراہیم!
37:104 -
قَدْ صَدَّقْتَ الرُّؤْيَا ۚ إِنَّا كَذَٰلِكَ نَجْزِي الْمُحْسِنِينَ
یقیناً تو نے اپنے خواب کو سچا کر دکھایا ، بیشک ہم نیکی کرنے والوں کو اسی طرح جزا دیتے ہیں.
37:105 -
إِنَّ هَٰذَا لَهُوَ الْبَلَاءُ الْمُبِينُ
درحقیقت یہ کھلا امتحان تھا.
37:106 -
وَفَدَيْنَاهُ بِذِبْحٍ عَظِيمٍ
اور ہم نے ایک بڑا ذبیحہ اس کے فدیہ میں دے دیا.
37:107 -
وَتَرَكْنَا عَلَيْهِ فِي الْآخِرِينَ
اور ہم نے ان کا ذکر خیر پچھلوں میں باقی رکھا.
37:108 -
سَلَامٌ عَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ
ابراہیم (علیہ السلام) پر سلام ہو.
37:109
ترجمہ: محمد ابراہیم جوناگڑھی